23 جنوری، 2026، 4:18 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

ورلڈ اکنامک فورم: ڈیووس میں ٹرمپ کا تکبر آمیز لہجہ، اتحادیوں کی مزید تحقیر و تذلیل

ورلڈ اکنامک فورم: ڈیووس میں ٹرمپ کا تکبر آمیز لہجہ، اتحادیوں کی مزید تحقیر و تذلیل

ڈیووس میں خطاب کے دوران امریکی صدر کے سخت لہجے اور یورپی اتحادیوں کی تحقیر کے بعد روایتی اتحاد کے مستقبل کو خدشات لاحق ہوگئے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طویل، پرتنش اور جارحانہ تقریر سے یورپی دارالحکومتوں میں پہلے سے موجود خدشات کو مزید تقویت ملی ہے۔ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں یورپ پر امریکہ سے فائدہ اٹھانے کا الزام عائد کیا، گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی اپنی کوششوں کی مخالفت پر حیرت کا اظہار کیا اور یورپی رہنماؤں کو ان کی معاشی اور مہاجرتی پالیسیوں پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

امریکی صدر نے یہاں تک نیٹو کے اس عزم پر بھی سوال اٹھایا کہ آیا وہ امریکہ کے دفاع کے لیے عملی طور پر تیار ہے یا نہیں، حالانکہ انہوں نے اس حقیقت کا ذکر نہیں کیا کہ نیٹو کے اجتماعی دفاع کی شق صرف ایک مرتبہ، 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد، خود امریکہ کی درخواست پر فعال کی گئی تھی۔ سخت لب و لہجے اور الزامات کے اس سلسلے میں ایک جملہ ایسا تھا جسے بعض یورپی حکام نے وقتی سکون کا اشارہ قرار دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ گرین لینڈ پر قبضے کے لیے “طاقت کا استعمال نہیں کریں گے”۔ موجودہ کشیدہ حالات میں، یہی بات کچھ یورپی حلقوں کے لیے ایک چھوٹی سی امید کی کرن سمجھی گئی۔

گرین لینڈ: دھمکی آمیز لہجہ برقرار

تقریر کے چند گھنٹوں بعد ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ نیٹو کے سیکریٹری جنرل کے ساتھ گرین لینڈ کے حوالے سے “مستقبل کے ایک ممکنہ معاہدے کے فریم ورک” پر متفق ہوگئے ہیں اور فی الحال یورپ پر نئی تجارتی محصولات عائد کرنے کی دھمکی بھی مؤخر کر دی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ اگر یہ حل حتمی شکل اختیار کرلیتا ہے تو یہ امریکہ اور نیٹو کے تمام ممالک کے لیے ایک بہترین معاہدہ ہوگا، تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

ٹرمپ کی تقریر کا سب سے نمایاں نکتہ گرین لینڈ سے متعلق تھا۔ اگرچہ انہوں نے عسکری آپشن کو مسترد کر کے قلیل مدت کے لیے مارکیٹوں اور یورپی دارالحکومتوں کو کچھ حد تک مطمئن کیا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کر دیا کہ ان کے نزدیک واحد قابل قبول حل گرین لینڈ کی “مکمل ملکیت” ہے، جو اس وقت ڈنمارک کے تحت ایک نیم خودمختار علاقہ ہے۔ انہوں نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ “آپ انکار کرسکتے ہیں، لیکن ہم یاد رکھیں گے”، جسے مبصرین نے سفارتی انداز سے زیادہ دھمکی آمیز بیان قرار دیا۔

ڈنمارک کی تضحیک اور تاریخ کی غلط تشریح

گرین لینڈ پر اپنے دعوے کے دفاع میں ٹرمپ نے ایک تاریخی دلیل پیش کی جس پر شدید منفی ردِعمل سامنے آیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے سوا کوئی ملک یا ممالک کا کوئی اتحاد گرین لینڈ کی سلامتی یقینی بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اور ڈنمارک پر ناشکری کا الزام عائد کیا۔

دوسری جنگِ عظیم کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ڈنمارک صرف چھ گھنٹے جرمنی کے سامنے ٹک سکا اور مکمل طور پر ناکام رہا؛ نہ اس نے اپنا دفاع کیا اور نہ گرین لینڈ کا۔ امریکہ کو مداخلت کرنا پڑی۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ ہم کتنے احمق تھے کہ گرین لینڈ ڈنمارک کو واپس کر دیا۔ تاریخ کی یہ مسخ شدہ تشریح داووس ہال میں موجود بہت سے لوگوں کے لیے چونکا دینے والی تھی اور اسے ایک غیر معمولی علاقائی مطالبے کو جواز دینے کی کھلی کوشش سمجھا گیا۔

شکایات کی طویل فہرست اور اتحادیوں کی تذلیل

اپنی تقریر کے دوران ٹرمپ نے حملوں کا دائرہ مزید وسیع کر دیا۔ انہوں نے میزبان ملک سوئٹزرلینڈ تک کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ ملک صرف امریکہ کی وجہ سے اچھا ہے۔ انہوں نے فخر کے ساتھ بتایا کہ ایک سوئس رہنما سے ذاتی ناراضی کے باعث انہوں نے اس ملک کے خلاف محصولات میں اضافہ کیا۔

فرانس، کینیڈا حتی کہ خود امریکی خاتون رہنما بھی ان کی تنقید سے محفوظ نہ رہ سکی۔ ٹرمپ نے فرانسیسی صدر کا مذاق اڑایا، کینیڈا کے وزیراعظم کو دھمکی دی اور نسل پرستانہ انداز میں کانگریس کی رکن ایلہان عمر پر حملہ کیا۔ ہجرت کے موضوع پر انہوں نے کہا کہ مغرب ایسی ثقافتوں کو درآمد نہیں کر سکتا جو کبھی ایک کامیاب معاشرہ تشکیل دینے میں کامیاب نہیں ہوسکیں۔ یہ جملہ ہال میں گہری خاموشی کے ساتھ سنا گیا۔

سامعین کی خاموشی اور اجلاس ہال سے روانگی

تقریر کے آغاز میں کھچا کھچ بھرے ہال میں کھڑے سامعین نے ٹرمپ کے بعض لطیفوں پر ہنسی کے ساتھ ردِعمل دیا، لیکن جیسے جیسے تقریر طویل ہوتی گئی اور حملے تیز تر ہوتے گئے، فضا سرد اور بوجھل بنتی چلی گئی۔ بہت سے حاضرین، خصوصا گرین لینڈ کے موضوع پر گفتگو کے دوران، حیرت اور بے یقینی کے عالم میں سر ہلاتے دکھائی دیے۔ جب تقریر ایک گھنٹے سے تجاوز کر گئی تو بعض شرکا ہال چھوڑ کر چلے گئے۔ خود ٹرمپ نے بھی آخر میں کسی واضح نتیجے کے بغیر تقریر کو ایک سرد جملے پر ختم کیا: بعد میں ملتے ہیں۔

وہ یورپ جسے ٹرمپ اب نہیں پہچانتے

اگر ٹرمپ کی تقریر کے مرکزی نکتے کو سمیٹا جائے تو وہ یہ پختہ یقین تھا کہ یورپ اپنی راہ بھٹک چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ کے بعض علاقے اب پہچانے نہیں جاتے اور اس صورت حال کی ذمہ داری مہاجرتی اور معاشی پالیسیوں پر عائد کی۔ گزشتہ صدی کی جنگوں کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ نے ایک بار پھر یورپ کو تحقیر کا نشانہ بنایا اور کہا: اگر ہم نہ ہوتے تو آج تم سب جرمن یا جاپانی بول رہے ہوتے۔ وہ بار بار اس بات پر زور دیتے رہے کہ دنیا امریکہ پر انحصار کرتی ہے، مگر اس کی قدر نہیں کرتی؛ یہ جملہ عالمی تعلقات کے بارے میں ان کے نقطۂ نظر کو بخوبی عیاں کرتا ہے۔

حاصل سخن

ڈیووس اجلاس 2026 میں ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر دراصل امریکہ کی خارجہ پالیسی میں موجود کئی بڑے مسائل کو ایک ساتھ سامنے لے آئی۔ یورپ اور امریکہ کے تعلقات میں تناؤ، واشنگٹن کی قیادت پر بڑھتا ہوا عدم اعتماد اور اس عالمی نظام کی کمزوری، جسے کبھی خود امریکہ نے بنایا تھا، سب کچھ اس تقریر میں صاف دکھائی دیا۔ ٹرمپ نے اختلافات کم کرنے کے بجائے سخت، تحقیر آمیز اور دھمکی بھرے لہجے میں بات کر کے ان فاصلوں کو اور بڑھا دیا۔

گرین لینڈ پر ملکیت کا دعوی، چاہے اس میں فوجی کارروائی کی بات نہ کی گئی ہو، یہ ظاہر کرتا ہے کہ ٹرمپ عالمی تعلقات کو ایک سودے کی طرح دیکھتے ہیں۔ اس سوچ میں ممالک کی خودمختاری، بین الاقوامی قوانین اور عالمی اداروں کی زیادہ اہمیت نہیں رہتی۔ یورپی اتحادیوں کو دیا جانے والا پیغام واضح تھا: سلامتی اور شراکت باہمی حق نہیں، بلکہ سیاسی تابعداری سے مشروط ہیں۔

اسی طرح یورپ، مہاجرین، عالمی اداروں اور امریکہ کے پرانے اتحادیوں پر کی گئی سخت تنقید سے یہ تاثر ملا کہ ٹرمپ تعاون کے بجائے دباؤ اور ٹکراؤ پر یقین رکھتے ہیں۔ اس رویے سے مغرب کے وہ دعوے دار اصول بھی کمزور پڑتے ہیں جن میں باہمی احترام اور مشترکہ فیصلے شامل ہیں، اور اتحادیوں کے درمیان بداعتمادی مزید بڑھتی ہے۔

ڈیووس میں موجود شرکا کا سرد ردِعمل، کچھ لوگوں کا درمیان ہی میں ہال چھوڑ دینا اور مجموعی خاموشی اس بات کا ثبوت تھی کہ ٹرمپ کی باتیں آج کی دنیا کی حقیقتوں سے میل نہیں کھاتیں۔ آج کی دنیا کسی ایک طاقت کی مرضی پر چلنے کے لیے تیار نہیں، چاہے وہ طاقت امریکہ ہی کیوں نہ ہو۔

مجموعی طور پر، داووس 2026 عالمی تعاون کا پلیٹ فارم بننے کے بجائے ٹرمپ کے دور میں امریکہ کی قیادت کے بحران کی علامت بن گیا۔ یہ تقریر طاقت دکھانے کے بجائے مغربی اتحاد کے مستقبل اور عالمی استحکام کے بارے میں خدشات کو اور بڑھا گئی، اور یہ سوال پہلے سے زیادہ نمایاں ہو گیا کہ کیا ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ واقعی دنیا میں ایک ذمہ دار کردار ادا کرنا چاہتا ہے یا نہیں۔

News ID 1937847

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha